یھ ابتدا بھی تو ہے انتھا کے لہجے میں
خدا کلام کرے مرتضٰی کے لہجے میں
دیار شام میں مُشکل کے وقت زینب نے
زبان کھولی ہے مُشکل کُشا کے لہجے میں
پدر کے لہجے میں کرتی ہے گُفتگو زینب
سکینھ بول رہی ہے چچا کے لہجے میں
مدد کو حضرتِ عباس آئیں گے لیکن
ہے شرط یہ کہ پکارو وفا کے لہجے میں
علی کے لہجے میں بولا تھا ایک بار خدا
ہزار بار یہ بولے خدا کے لہجے میں۔
No comments:
Post a Comment