اس بلاگ میں آپ اھلبیت اطھار کی شان میں قصیدے، منقبت، رباعیاں اور نوحے پڑھہ سکتے ہیں، اگر آپ کوئی نوحہ، رباعی اور منقبت ہمارے ساتھہ بانٹنا چاہتے ہیں تو کمینٹس میں دے دیں، ہم اُس کو ضرور پبلش کریں گے

Saturday, November 14, 2009


علی عہ سے پیار کرتے ہیں تیرا احسان ہے مولا۔
ہمارے پاس بخشش کا یہی اک سامان ہے مولا۔
درِ شاہِ نجف کو چھوڑ دیں جنت کے بدلے میں۔
یہ سودا ہم نہیں کرتے ہمیں نقصان ہے مولا۔

سر تو ممکن ہے کہ ہوجائے قلم عباس عہ کا۔
ھٹ نہیں سکتا مگر پیچھے قدم عباس عہ کا۔
بھائیوں کی طرح رہتے ہیں ہمیشہ ساتھہ ساتھہ۔
تعزیہ ثبتِ پیعمبر کا اور علم عباس عہ کا۔

موج دریا سوچ کہ تکتی رہی عباس عہ کو۔
مجھہ سے بھی پیاری ہے اپنی تشنگی عباس عہ کو۔
جنگ کےمیدان میں تلوار کی کیا حیثیت۔
اپنے بازووں کی بھی ضرورت نہ تھی عباس عھ کو۔

یہ سوچ کے پانی میں بہاتےہیں عریضے۔
جاگیر ہے پانی تو شھنشاہِ وفا کی۔
پہنچائے گا عریضوں کو منزل پہ ہمارے
پانی کو قسم دی ہے سکینہ سہ کے چچا کی۔

خواب سے ڈرتا رہا، تعبیر سے ڈرتا رہا۔


خواب سے ڈرتا رہا، تعبیر سے ڈرتا رہا۔
ایک حاکم صاحبِ زنجیر سے ڈرتا رہا۔
قید سے سجاد و زینب سہ کے رہا ہونے کے بعد۔
ھر ستم گر ماتمِ شبیر عہ سے ڈرتا رہا۔
واقعا یہ ہے کہ اصغر عہ تیر کھا کر ہنس دیا۔
حرملا پھر زندگی بھر تیر سے ڈرتا رہا۔

میرے مولا کے پھریرے کی ہوا۔ ۔

میرے مولا کے پھریرے کی ہوا باقی ہے۔
حشر تک فاطمہ الزہرا سہ کی دعا باقی ہے۔
معرکہ جیت لیا، جیت لیا زینب سھ نے۔
مٹ گیا تختِ ستم، فرشِ عزا باقی ہے۔

پورا اپنے باپ کا ارمان کرنے آئے ہیں۔
ظلم کی تشھیر کا سامان کرنے آئے ہیں۔
قید کرلیا ہمیں یہ ظالم تیری بھول ہے۔
ہم تو اپنی فتح کا اعلان کرنے آئے ہیں۔