نظر سے دیکھہ آئے گا، نظر حُسین ایک ہے۔
سدا کھلا ہے جس کا در، وہ در حُسین ایک ہے۔
محمد ان میں چار ہیں، علی بھی ان میں چارہیں۔
حسن بھی ان میں دو بنے یہ دین کا وقار ہیں۔
یہ بار بار سب بنے مگر حسین ایک ہے۔
خدا کو جو پسند ہے، حُسین کا مزاج ہے۔
زمین و آسمان پر انھی کا صرف راج ہے۔
اُدہر خدا بھی ایک ہے، ادہر حُسین ایک ہے۔
No comments:
Post a Comment