علی کے در سے زمانے کو ہر اُصول ملا۔
وہ خوشنصیب ہے جس کو درے بتول ملا۔
رھے گی جس کی مہک تا ابد زمانے میں۔
ہے آج باغِ ولایت کو ایسا پھول ملا۔
علی عہ کے نام سے مومن کا کھل اُٹھا چہرا۔
یہ نام سُن کے مُنافق ہمیں ملول ملا۔
زمیں پہ عرش پہ مہتا ب میں ستاروں میں۔
جہاں رسول وہیں نائبِ رسول ملا۔
مقابلا نا کیا کر علی عہ کا غیروں سے۔
یہ نورے حق ہیں نا باطل کی اس پہ دھول ملا۔
کہانی کعبے کی بھی مختصر تھی اے زاہد۔
علی جو آئے تو اس داستاں کو طول ملا
Salm Ya Hussain(a.s)
ReplyDeletegreat poem. Allah bless U.(Ameen)