اس بلاگ میں آپ اھلبیت اطھار کی شان میں قصیدے، منقبت، رباعیاں اور نوحے پڑھہ سکتے ہیں، اگر آپ کوئی نوحہ، رباعی اور منقبت ہمارے ساتھہ بانٹنا چاہتے ہیں تو کمینٹس میں دے دیں، ہم اُس کو ضرور پبلش کریں گے

Saturday, November 7, 2009

کون کہتا ہے کہ شبیر کا ماتم نہ کرو

شاعر: شہزاد علی فرام پشاور
نوحہ خوان: باوا سید سبطین شاھہ بخاری آف ڈیرا اسماعیل خان

نوحہ

کون کہتا ہے کہ شبیر کا ماتم نہ کرو
یہ عبادت ہے،زیادہ تو کرو کم نا کرو


فلسفہ تیرا سمجھہ میں نہیں آتا ہم کو
حج کرو، عید کرو، اور محرم نا کرو

سرد ہو گرم ہو، طوفان ہو کہ بارش ہو
ماتمِ شاہ کرو، شکوائے موسم نا کرو

کلمائے حق کا ہو، جب کفر مقابل دیکھو
اپنی آواز بڑھادو کبھی مدہم نا کرو

یہ اذیت نہیں،یہ تو ہے عبادت ناداں
جان بھی جائے تو جانے دو کوئی غم نا کرو۔

حق کو آنا ہے وہ آئے گا مٹے گاباطل
ٹھیک ہوجائے گا شہزاد کبھی غم نا کرو

وڈیو یہاں ملاحظہ فرمائیں۔
اس جگہ پہ رائٹ کلک کرکے ڈائونلوڈ کریں


No comments:

Post a Comment